حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید محمد سعیدی نے آج بروز جمعہ 18 ستمبر 2026 کو مصلیٰ قدس قم میں نماز جمعہ کے خطبوں میں خطاب کرتے ہوئے دفاع مقدس کی سالگرہ اور یمن میں حالیہ جنگ کا ذکر کیا۔ انہوں نے یمن میں انصار اللہ کی کارروائیوں کو ایران میں خرمشہر کی آزادی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں واقعات میں ایمان، اللہ کی مدد اور مزاحمت کا جذبہ نمایاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح 1361 ہجری شمسی میں خرمشہر کی آزادی نے جنگ کے حالات بدل دیے تھے، اسی طرح یمن میں باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کی کارروائیوں نے بھی جنگ کے حالات کو تبدیل کیا ہے۔ آیت اللہ سعیدی نے کہا کہ اسلامی مزاحمت کے لیے کامیابی کا راستہ ایمان اور نصرت الٰہی پر یقین کے ذریعے جاری رہے گا۔
قم کے امام جمعہ نے کہا کہ ایرانی عوام گزشتہ 200 سے زائد راتوں سے میدان میں موجود ہیں اور اپنے ہاتھوں میں مختلف پرچم اٹھا کر شہداء کے خون کا بدلہ لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق عوام نے امامِ امت، فوجی کمانڈروں، سائنس دانوں، دنا بحری جہاز کے اہلکاروں اور میناب کے اسکول کے معصوم بچوں کی شہادت پر اپنے غم اور غصے کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو بھی ایران کے خلاف جارحیت کا ارادہ رکھتا ہے، اسے ایرانی عوام کے سخت ردعمل کے لیے تیار رہنا چاہیے
آیت اللہ سعیدی نے نئے تعلیمی سال کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ کو محنت سے تعلیم حاصل کرنے کی تاکید کی اور کہا کہ بچے اور نوجوان ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے امام علی علیہ السلام کی تعلیم کی اہمیت سے متعلق روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص بچپن میں تعلیم حاصل نہیں کرتا، وہ بڑی عمر میں ترقی نہیں کر پاتا۔
انہوں نے سانحۂ منا کے شہداء کو بھی یاد کیا اور حجاج کی سلامتی کو انتہائی اہم قرار دیا۔
قم کے امام جمعہ نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی مختصر مگر اہم دور امامت میں شیعوں کو غیبت کے دور کے لیے تیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امام حسن عسکریؑ نے شیعہ معاشرے کی رہنمائی کے لیے ایسے انتظامات کیے جن کے ذریعے غیبت کے زمانے میں بھی دینی رہنمائی کا سلسلہ جاری رہ سکے۔
انہوں نے حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے یوم وفات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت معصومہؑ کی قم آمد نے ایران کی روحانی فضا پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے آپؑ کو عفت، حیا، دینی شعور اور اسلامی زندگی کے حوالے سے خواتین کے لیے نمونہ قرار دیا۔
خطیب نماز جمعہ قم نے خطبۂ اول میں تقویٰ، اللہ سے قرب اور سورۂ فتح کی آخری آیت کی تفسیر بھی بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ سورۂ فتح کی آیت 29 ایک مومن معاشرے کی خصوصیات بیان کرتی ہے؛ ایسا معاشرہ جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے محور پر قائم ہو، آپس میں رحمت و محبت رکھتا ہو، عبادت گزار ہو اور اللہ کی رضا کا طلب گار ہو۔
انہوں نے کہا کہ امت اسلامیہ کی شناخت قوم، جغرافیہ یا صرف اجتماعی مفادات سے نہیں بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق اور آپ کی رسالت کے ذریعے قائم ہوتی ہے۔









آپ کا تبصرہ